کوئٹہ ،خاران ، اورناچ میں پاکستانی فورسز پر حملے و جھڑپیں، ایف سی اہلکار گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے کوئٹہ اور خاران میں پاکستانی فورسز کو بم دھماکے میں جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آج صبح کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں روڈ کنارے گاڑی میں نصب بارودی مواد کے دھماکے میں فورسز کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اہلکاروں کو جانی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔

حکام نے واقعے کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے تاہم علاقائی ذرائع کے مطابق دھماکے میں فورسز کی ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔

علاقے میں شدید نوعیت کی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جہاں مختلف مقامات پر پاکستانی فورسز اور مسلح افراد میں جھڑپیں جاری ہے۔

دریں اثناء خاران کے علاقے گرُک میں نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کی ایک گاڑی کو اس وقت دھماکے میں نشانہ بنایا جب وہ روڈ سے گزر رہی تھی۔

علاقہ ازیں ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے پاکستان فوج (ایف سی) کے ایک اہلکار کو مسلح افراد نے شناخت کے بعد حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز اورناچ کے مقام پر بلوچستان کو سندھ سے ملانے والی مرکزی شاہراہ این – 25 پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے شاہراہ کا کنٹرول سنبھالا اور اسنیپ چیکنگ کا آغاز کیا۔

ذرائع کے مطابق دوران تلاشی مسلح افراد نے ایک مسافر بس سے پاکستانی فوج کے اہلکار کو شناخت کے بعد حراست میں لے لیا جبکہ اس دوران ایک اور شخص کو بھی مسلح افراد اپنے ہمراہ لے گئے۔

دریں اثناء وڈھ میں سونارو کے مقام پر مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کی اور فوجی تعمیراتی کمپنی (ایف ڈبلیو او) کے سائٹ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا جہاں کمپنی کے کرش پلانٹ سمیت وہاں کھڑی متعدد گاڑیاں نذر آتش کردی گئی۔

اورناچ سے فوجی اہلکار کی گرفتاری ایسے موقع پر ہوئی جب قلات میں مرکزی شاہراہ پر بلوچ لبریشن آرمی نے اسنیپ چیکنگ کے دوران ایئرپورسٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو حراست میں لیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article