پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں نجی کالج کے پرنسپل حمزہ برہان کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد واقعہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی نمایاں ہوا ہے، خصوصاً اس وقت جب بھارتی حکومت نے مقتول کی شناخت اور پس منظر سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
بھارتی وزارتِ داخلہ کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق حمزہ برہان دراصل ارجمند گلزار ڈار عرف ڈاکٹر تھے، جنہیں 19 اپریل 2022 کو UAPA (غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ) کے تحت ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا تھا۔
بھارتی ریکارڈ کے مطابق ان کی عمر 23 سال (موجودہ 27) بتائی گئی۔ تعلق پلوامہ کے علاقے خربت پورہ سے تھا۔وہ کالعدم تنظیم البدر کے سرگرم رکن اور کمانڈر تھے۔پاکستان منتقل ہونے کے بعد مبینہ طور پر تنظیمی سرگرمیاں چلاتے رہے۔نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
بھارتی وزارتِ داخلہ نے اپنی ویب سائٹ پر ان کے خلاف بارودی مواد کی برآمدگی، 2020 میں CRPF پر گرینیڈ حملے اور دیگر مقدمات کی تفصیلات بھی درج کر رکھی ہیں۔
واقعہ پیش آتے ہی بھارتی میڈیا نے چند منٹوں کے اندر اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا اور دعویٰ کیا کہ “مظفرآباد میں ہلاک ہونے والا شخص پلوامہ حملوں سے جڑا ہوا تھا۔”
بھارتی چینلز نے مقتول کو ’مطلوب دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے اسے بھارتی سکیورٹی اداروں کے ریڈار پر موجود اہم ناموں میں سے ایک بتایا۔
پاکستانی کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے بھارتی دعوؤں کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔
ایس پی ریاض مغل کے مطابق “وہ کشمیری تھے، باقی معاملات تفتیش میں ہیں۔”
دو سینئر سرکاری افسران نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقتول کا تعلق بھارتی کشمیر سے تھا، تاہم عسکری روابط پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا گیا۔
جمعرات کی دوپہر گوجرہ بائی پاس پر واقع ایمز کالج کے باہر نامعلوم شخص نے حمزہ برہان کو قریب بلا کر فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق پہلا فائر پیٹھ پر کیا گیا،ایک گولی سر میں لگی۔حملہ آور عبداللہ کمال کو گرفتار کر لیا گیاہے اور اسلحہ بھی برآمد ہواہے۔
حمزہ برہان سی ایم ایچ میں دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
بھارتی حکومت کے سخت مؤقف اور تفصیلی الزامات کے بعد خطے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ تھا؟کیا مقتول واقعی بھارتی حکومت کے مطابق مطلوب شخص تھا؟کیا یہ واقعہ سرحد پار کشیدگی کے تناظر میں پیش آیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ خطے میں پہلے سے موجود حساس سکیورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔