وی بی ایم پی کے رہنماؤں کو دھمکانا آزادیِ اظہار پر براہِ راست حملہ ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے وی بی ایم پی سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ریاستی جبر، دھمکیوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی توجہ کی اپیل کی ہے ۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے چیئر مین نے کہا تھا کہ انہیں اور اس کی ٹیم کو جبری گمشدگیوں کے خلاف دہائیوں سے جاری کیمپ کو بند کرنے کے لئے دھمکایا جارہا ہے ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے ایک بیان میں بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو درپیش خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

کمیٹی کے مطابق بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، اساتذہ، طلبہ اور دانشوروں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ سیاسی کارکن طویل عرصے سے ریاستی اداروں کی جانب سے دھمکیوں، تشدد اور ٹارگٹ کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ واقعات میں انسانی حقوق کے محافظین کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں غَمخوار حیات بلوچ کا قتل ریاستی تشدد کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق وی بی ایم پی گزشتہ 6172 دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف پرامن احتجاجی کیمپ چلا رہا ہے، جو بلوچ نسل کشی کے خلاف ایک مضبوط علامت بن چکا ہے۔ تاہم اس کیمپ کو متعدد بار ہٹانے کی کوششیں کی گئیں اور تنظیم کے رہنماؤں کو بارہا دھمکیاں دی گئیں کہ وہ اپنی جدوجہد ترک کر دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وی بی ایم پی کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا آزادیِ اظہار پر براہِ راست حملہ ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ یہ کیمپ بلوچستان کے بے آواز لوگوں کی آواز ہے، اور اسے دبانے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان بھر کے عوام اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور ریاستی اداروں کو جوابدہ بنائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اس مسئلے پر فوری توجہ دے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article