بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں 6172ویں روز میں داخل ہوگیا۔
اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا، شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کو بند کرنے اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری پرامن جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب نقاب پوش مسلح افراد نے نیاز محمد کو راستے میں روک کر کیمپ بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
ان کے مطابق اسی نوعیت کی دھمکی مجھے بھی اس وقت دی گئی جب میں چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے منعقدہ ایک ورکشاپ میں شریک تھا، جہاں لاپتہ افراد کے مسئلے پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ورکشاپ کے دوران ایک شخص میرے پیچھے آکر بیٹھ گئی اور کہا: “آپ کو ڈر نہیں لگتا؟ گھر نہیں جانا؟ آپ کی فیملی ہے، بچے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف خوف پھیلانے کی کوشش تھا بلکہ اس مسئلے پر آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرانے کی ایک واضح کوشش بھی محسوس ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے انسانی حقوق کی آواز کو دبانے کی کوشش ہیں، مگر جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔