پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانش پر حملہ ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے محقق، شاعر، ادیب اور استاد پروفیسرغمخوار حیات کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ المناک واقعہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور اجتماعی سزا کا ایک تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پندرہ سال قبل اسی طرح کے ایک حملے میں ریاست نے معروف شاعر، محقق اور دانشور پروفیسر صبا دشتیاری کو نشانہ بنا کر قتل کیا تھا۔ "ہم غمخوار حیات کو ان کی شہادت، قربانی، ان کی بے پناہ ادبی خدمات اور علمی کاوشوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، وہ تقریباً اٹھارہ کتابوں کے مصنف تھے، بلاشبہ ان کا نقصان بلوچ قوم اور بلوچی اور براہوی زبانوں کے لیے ناقابل تلافی ہے۔”

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسی پاکستان نے بنگلہ دیش میں ایک ہزار سے زائد شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور اساتذہ کو قتل کیا، صرف 14 دسمبر 1971 کو پاکستانی فوج نے 200 سے زائد ممتاز دانشوروں کو بے دردی سے قتل کیا، آج وہی دردناک روش بلوچ قوم میں دہرائی جا رہی ہے۔

بی این ایم کے چیئرمین نے مزید کہا کہ بلوچ قومی آواز کو خاموش کرنے اور معاشرے کو ذہنی طور پر دبا اور پسماندہ رکھنے کے لیے بلوچ دانشوروں، طلبہ، اساتذہ، شاعروں، ادیبوں کو کئی سالوں سے منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بلوچستان میں جاری ریاستی تشدد کا ایک اور المناک ثبوت ہے، جہاں مجرم مکمل استثنیٰ کے ساتھ جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض ریاست بلوچ قوم کی فکری، ادبی اور نظریاتی بنیادوں کو تباہ کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے۔ "اساتذہ، دانشور اور ادبی شخصیات کسی بھی قوم کی فکری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان پر حملے درحقیقت بلوچ قومی فکر، شناخت، تاریخ، زبان اور شعور پر حملے ہوتے ہیں، تاہم جبر، قتل و غارت اور خوف کے ذریعے سچائی کو نہیں دبایا جا سکتا اور نہ ہی آزادی، انصاف اور وقار کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم کو خاموش رکھا جا سکتا ہے۔”

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات نے اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے بلوچ معاشرے میں بیداری، مزاحمت اور قومی شعور کو پروان چڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا قتل نہ صرف براہوی ادب بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوام متحدہ، ادبی انجمنوں اور میڈیا کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بلوچ دانشوروں اور شہریوں کے خلاف ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کا نوٹس لیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پاکستان کا احتساب کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article