پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ : کینیا میں ُپرتشدد مظاہرے شروع، 4 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج میں 4 افراد ہلاک اور کم از کم 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ ہڑتال حکام کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتیں 20 فیصد تک ریکارڈ سطح تک بڑھانے کے خلاف کی گئی۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکیں بند کیں اور ٹائر بھی جلائے۔ وزیر داخلہ کِپچومبا مرکو مین کے مطابق پرتشدد احتجاج کے الزام میں 348 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نیروبی کے مختلف حصوں اور ملک بھر کے دیگر علاقوں میں پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جنھوں نے جلتے ہوئے ٹائروں اور رکاوٹوں کے ذریعے سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔

یاد رہے کہ کینیا کی انرجی اینڈ پیٹرولیم ریگولیٹری اتھارٹی (ایپرا) نے جمعرات کو ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر 242 شلنگ (1.8 ڈالر) فی لیٹر کی سطح تک پہنچا دیں، جبکہ دیگر ایندھن کی قیمت 1.65 ڈالر تک ہو گئی۔

ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال کے بعد ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے، جبکہ دارالحکومت نیروبی میں اہم سڑکیں بڑی حد تک خالی رہیں، کاروبار میں مندی رہی جبکہ سکولوں نے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایات کی۔

یاد رہے کہ کینیا، دیگر کئی افریقی ممالک کی طرح، خلیج سے ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تنازع کے باعث یہ ملک ایندھن کی سپلائی سے متاثر ہوا۔

وزیر خزانہ جان مبادی نے پیر کو مقامی این ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ’بدقسمتی‘” ہے اور تسلیم کیا کہ اس سے معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

نیروبی پولیس کے کمانڈر عیسیٰ محمد نے کہا کہ جھڑپوں میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پانچ پولیس گاڑیوں اور ایک سویلین گاڑی کو نقصان پہنچا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article