جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے نیاز محمد کی سربراہی میں 6159ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
شرکاء نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
دوسری جانب اسلام آباد سے بلوچ طالب علم کمبیر خان جتک کی جبری گمشدگی پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
ساتھی طالب علموں کے مطابق خضدار سے تعلق رکھنے والے کمبیر خان جتک ولد علی محمد جتک، جو قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں آرکیالوجی کے طالب علم ہیں، کو گزشتہ رات تقریباً 9 بجے I-8 مرکز اسلام آباد کے قریب ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
طلباء کے مطابق انہوں نے متعلقہ تھانے اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم نہ تو کمبیر جتک کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جارہی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جس کے باعث اسلام آباد میں زیر تعلیم بلوچ طلباء میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد سے ایک بلوچ طالب علم کا جبری لاپتہ ہونا انتہائی تشویشناک اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کمبیر خان جتک کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ زیر تعلیم بلوچ طلباء میں پائی جانے والی بےچینی کا خاتمہ ہوسکے۔