بلوچستان بھر کے وکلاء تنظیموں نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور بلوچ، لیکچرار ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور دیگر کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، کیچ بار ایسوسی ایشن، گوادر بار ایسوسی ایشن، پنجگور بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان کی دیگر وکلاء تنظیموں نے آج بلوچستان بالخصوص مکران ڈویژن میں عدالتی کارروائیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
وکلاء تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، لیکچرار اور دیگر علمی شخصیات کا اغوا بلوچستان کے علم و دانش پر صریح حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ علم، اساتذہ اور دانشوروں کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
بیان میں نوشکی میں نامور بلوچ شاعر، ادیب اور دانشور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی بھی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
وکلاء تنظیموں کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان اہلِ علم، کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ صوبے میں حکومتی رٹ کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حالات کے حقیقی اسباب کا ادراک کرتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق مؤثر پالیسیاں مرتب کی جائیں۔
مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر گوادر یونیورسٹی کے مغوی اساتذہ اور دیگر افراد کو جلد بازیاب نہ کیا گیا تو وکلاء تنظیمیں مزید سخت احتجاجی اقدامات کا اعلان کریں گی۔