بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC)کی دوسری مرکزی کمیٹی کا تین روزہ اجلاس کوئٹہ میں چیئرمین عزیر بلوچ کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں تنظیم کی سابقہ کارکردگی، تنظیمی امور، زونل رپورٹوں، علاقائی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
تنظیم کے مرکزی ترجمان کے مطابق اجلاس میں سابقہ مرکزی رپورٹ، مختلف کمیٹیوں کی کارکردگی رپورٹس اور جائزاتی رپورٹ پیش کی گئیں، جن پر تفصیلی بحث کے بعد انہیں منظور کیا گیا۔ اجلاس میں تنقیدی نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں مرکزی ذمہ داران نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی، پیش رفت اور زونل سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین عزیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ سماج اس وقت تعلیمی پسماندگی، اخلاقی بحران، معاشرتی برائیوں اور فکری جمود سمیت متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے نوجوانوں کو علمی، فکری اور سیاسی طور پر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں نوجوانوں نے اپنے معاشروں کی تعمیر و ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ نوجوانوں کو اپنی تعلیم، شعور اور اجتماعی عمل کو مزید مضبوط کرتے ہوئے سماج کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
اجلاس میں تنظیمی امور پر بحث کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ طلبہ سیاست بلوچ سماج میں علمی، ثقافتی، ادبی اور سیاسی شعور کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ چیلنجز کے باوجود نوجوانوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔
اجلاس کے دوران آئندہ کے لائحہ عمل کے تحت متعدد پروگراموں اور مہمات کا اعلان کیا گیا، جن میں "انٹیلیکچول ڈیبیٹ آن بلوچ سوسائٹی”، "مہرگڑھ کانفرنس”، "عید مراگاہ”، "گرماگی اوتاگ”، سائنس ایگزیبیشن، بلوچ لٹریسی مہم، اسکولوں میں گھوسٹ اور متبادل اساتذہ کے خلاف مہم، جامعات میں طلبہ کی تعداد میں کمی کے حوالے سے سرگرمیاں، اور بچوں کے ادب کو ڈیجیٹل شکل دینے کے لیے "گام” میگزین شامل ہیں۔
تمام ایجنڈوں پر تفصیلی بحث اور مختلف پالیسی فیصلوں کے بعد اجلاس تیسرے روز چیئرمین کی اجازت سے اختتام پذیر ہوگیا۔