بلوچستان اسمبلی کے رکن مولوی نوراللہ نےاپنے حلقہ میں غیر مقامیوں کو زمینیں دینے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پہاڑوں پر جانے کا عندیہ دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خطا ب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں رکن اسمبلی مولوی نور اللہ نے توجہ دلاو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ معدنیات و ترقی کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کروائیں گے کہ کیا یہ درست ہے کہ قلعہ سیف اللہ میں سال 2025-26 کے دوران بی ایم آرایل (BMRL) کو تقریباً 379.50 کلومیٹر جبکہ ویسٹرن (Western) کمپنی کو تقریباً 350 کلومیٹر زمین الاٹ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اسکے علاوہ مذکورہ الائمنٹ میں لوگوں کو پہلے سے الاٹ شدہ ایریا (ML) اور (PL)کو بھی اس میں شامل کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مقامی مائن اونرز اور علاقے کے عوام میں سخت تشویش پائی جارہی ہے۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو پہلے سے الاٹ شدہ ایریا (MIL) اور (PL) کو کس ضابطے کے تحت باہر کے لوگوں کو الاٹ کی جارہی ہے مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے علاقے میں باہر کے لوگوں کو زمین الاٹ ہوئی تو ہم پہاڑ پر بھی جاسکتے ہیں بھوک سے مرنے سے بہتر ہے ہم حق کیلئے قربانی دے دیںہم مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو تسلیم نہیں کرتے ۔
بعدازاں توجہ دلاؤ نوٹس کو نمٹا دیا گیا ۔