بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6162ویں روز بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کی۔
اس موقع پر بی ایس او کے سابق چیئرمین مہیم خان بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں داد محمد مری اور صالح محمد مری کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔ اہل خانہ کے مطابق داد محمد مری اور صالح محمد مری کو 14 سال قبل پرانا بس اڈہ کوئٹہ سے مبینہ طور پر فورسز نے جبری لاپتہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کیسز لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن میں زیر سماعت تھے، مگر گزشتہ ایک سال سے کمیشن نے سماعت بند کر رکھی ہے اور نہ ہی انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
نیاز محمد نے یقین دہانی کرائی کہ تنظیم داد محمد مری اور صالح محمد مری کے کیسز پر دوبارہ سماعت شروع کروانے کے لیے کمیشن سے رابطہ کرے گی اور ان کی بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ داد محمد مری اور صالح محمد مری سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔