نصیرآباد گڈو سے اندرون بلوچستان کو جانے والی بجلی کے ہائی ٹرانسمیشن سسٹم 220 کے وی بجلی کے دو ٹاورز کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا جس سے متعدد علاقوں کو بجلی کی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق ضلع نصیرآباد پولیس تھانہ چھتر کی حدود میر حسن بیرون ایریا میں سندھ گڈو تھرمل پاور سے اندرون بلوچستان بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن سسٹم 220 کے وی کے بجلی کے دو ٹاورز کو نا معلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔
دھماکے اس قدر زوردار تھے کہ انکی آواز دور دور تک سنی گئی، جس سے دو ٹاورز زمین بوس ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع پر مقامی پولیس اور سیکورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا، جبکہ این ٹی ڈی سی کی بھی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔
حکام کے مطابق مرمت و بحالی کا کام سیکورٹی کی نگرانی میں شروع کردیا گیا ہے۔
ٹاورز کے تباہ ہونے سے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئے کا خدشہ پایا جارہا ہے۔
دوسری جانب واقعہ کی ذمہ داری بلوچ ریپبلکن گارڈز ( بی آر جی ) نے قبول کرلی ۔
ترجمان دوستین بلوچ کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شب بلوچ ریپبلکن گارڈز کے سرمچاروں نے نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی کے قریب میر حسن کے مقام پر بجلی کی دو ٹاورز کو بارودی مواد نصب کر کے دھماکے سے تباہ کر دیا۔ دھماکے میں ایک ٹاورز زمین بوس ہوگئے جبکہ ایک ٹاورز کو شدید نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ ہماری تنظیم بی آر جی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس طرح کے حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔