شہیدکامریڈ حاجی رزاق – تحریر دوستین بلوچ ،چیف ایڈیٹر سنگر

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

دنیا میں کچھ لوگ غیر معمولی صلاحیتوں کے علاوہ کچھ الگ ہی ہوتے ہیں،جو بغیر کسی ذاتی مقاصد اور عناد سے مبرا ہوتے ہیں،ان کا وژن اجتماع کی فلاح ہوتا ہے اور ایسے افراد اس دنیا میں نایاب ہیں اور انھیں چند سطور میں سمیٹنا ناممکن ہوتا ہے۔ آج کی تاریخ میں ایک ایسے نایاب گوہر کا نام شہید کامریڈ حاجی رزاق بلوچ ہے۔ حاجی عبدالرزاق بلوچ سے جو بھی رو برو ہوا ہے وہ اس نایاب گوہر سے ضرور کچھ نہ کچھ سیکھ گیا ہے۔جب سنگر پبلی کیشنز نے لٹریچر و پبلی کیشن کی دنیا میں عملی سفر کا آغاز کیا۔جو ایک طویل اور سینکڑوں ساتھیوں کی انتھک محنت سے آج اس مقام پر پہنچا ہے کہ بلوچ قومی جہد میں ادارہ نے اپنا ایک اہم مقام بنا لیا ہے تو اس سفرمیں جہاں سینکڑوں ساتھیوں کی دن رات کی محنت درکار رہی انھیں چند سطور میں بیان کرنا بھی ممکن نہیں تو ایسے میں حاجی رزاق بلوچ کا اس قلمی و آگاہی کے جہد میں ذکر نہ کرنا خود اس سفر کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔ قلم وکتاب سے محبت رکھنے والے شہید بلوچ کی خدمات سنگر پبلی کیشنز کو لے کر متاثر کن ہیں۔اگست2009ء ادارہ نے (نیشنلزم تاک ۱) سے اپنی علمی سفر کا آغاز کیا تو اس کے بعد سنگر پبلی کیشنز کے دوسری اجلاس میں عظیم انقلابی رہبر شہید حاجی رزاق بلوچ ادارے میں اہم ممبر کی حیثیت سے اپنی خدمات کے ساتھ آگاہی کے کام میں تیزی کے ساتھ قوم کی رہنمائی کرتے رہے۔

کتابی سلسلوں سے لے کر ( ماہنامہ سنگر) کی اجراء تک وہ دن رات آگاہی کے مہم میں مگن رہے۔جب ادارہ نے ماہنامہ سنگر کی اجراء کا فیصلہ کیا تو کامریڈ نے اس عمل کو انقلابی قرار دیتے ہوئے اس میں پہل کی۔سنگر پبلی کیشنز کو لے کر شہید کامریڈ کی بہت وسیع حکمت عملیاں تھیں جس میں بلوچ آبادیوں جو سندھ و پنجاب اور مقبوضہ ایران میں منقسم تھے میں شمارہ کی تقسیم کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ قومی تحریک کے حوالے سے مختلف علاقوں میں منقسم بلوچوں میں آگہی ہو اور ان کا تحریک کے ساتھ ایک رشتہ قائم رہے۔ آپ کی قلمی،علمی خدمات بے مثال ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا کسی بھی مورخ کے بس کی بات نہیں۔
آپ بذات خود انقلاب تھے مارکس،لینن پر علمی دسترس کے ساتھ آپ دنیا بھر میں مزدور اتحاد کے حامی تھے اور ایک لعل ٹوپی اکثر و بیشتر آپکے ساتھ رہتی تھی۔کراچی جیسے شہر میں جہاں ایک کمرہ میں موجودخاندان کے فرد کو دوسرے کمرے میں فرد کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں ہوتا ایسے میں اس سیاہ روشنیوں کی شہر میں آپ کی ایک الگ پہچان تھی۔ایک یادگار واقعہ جب راقم اور چند دوست اُردو بازار سے کچھ کتابیں لے کر نکلے اور صدر کے ریگل چوک پر جس دوست کی گاڑی میں سوار تھے انھوں نے اپنے کسی کام کے سلسلے میں گاڑی وہاں روک لی تو ایک درمیان عمر کا مانگنے والے نے شیشے میں شہید حاجی سے ہاتھ پھیلا یاکہ کچھ دے دو۔جس پر کامریڈ نے ہلکی اور مٹھاس مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ پیسے تو میرے پاس بھی نہیں ہیں لیکن خالی بھی آپ کو نہیں بھیج سکتا وہ ہر وقت چھالیہ مُنہ میں چھباتے ان کو بھی ایک چھالیہ دیا اور کہا کہ پیسے تو نہیں چلیں ایک شعر سناتا ہوں۔پھر فراز کی ایک پوری نظم اس مانگنے والے کو سنا ڈالی۔۔۔۔۔ایک ملنگ درویش انسان۔۔جسے ہم کامریڈ رزاق بلوچ کہتے ہیں اورآپ اور باقی درجنوں لوگ اسے کئی دوسرے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔۔۔اپنی الگ پہچان اپنی قومی نظریہ، و اشتراکیت و برابری کے فکر پر سخت موقف والے حاجی صاحب دراصل ایک معصوم بچے کی مانند تھے۔شرارتی،خوش مزاج۔۔۔۔ہر دلعزیز۔۔۔

Share This Article
Leave a Comment