بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی، خصوصاً سوئی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں جبری گمشدگیوں کی نئی لہر سامنے آئی ہے، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سوئی شہر سے تین مزید افراد نبی بخش ولد محوت بگٹی، نبی بخش عرف لایوں ولد بنا بگٹی، اور عثاما عرف نادو ولد نیک محمد بگٹی—کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔تینوں افراد قبیلہ بگٹی کی ذیلی شاخ حبیبانی سے تعلق رکھتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز میں اسی شاخ کے پانچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر سوئی شہر سے آٹھ افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسی دوران سوئی کے علاقے پٹ فیڈر میں فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں نے گلمیر ولد بند علی بگٹی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔
7 اپریل کی صبح سوئی کے محمد کالونی سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے کریم ولد رحیم بخش بگٹی کو جبری طور پر لاپتہ کیا، جبکہ 9 اپریل 2026 کو صدیق ولد نظر علی بگٹی کو بھی سی ٹی ڈی نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔ دونوں افراد تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔
رپورٹس کے مطابق ضلع بھر میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ایک 65 سالہ معمر خاتون—شاہل ممدازی بگٹی کی اہلیہ ہیں کو پِیرکوہ ٹاؤن سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔
اسی کارروائی کے دوران ڈیرہ بگٹی ٹاؤن سے سی ٹی ڈی نے مزید نو افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا، جن میں ارباز ولد اکرم خان بگٹی،قاسم علی ولد لیمو خان بگٹی،جبار خان ولد حیات بگٹی،متین ولد حیات بگٹی،سجاد ولد بلال بگٹی،امین ولد نور دین بگٹی،رہزان ولد داد محمد بگٹی،دین محمد ولد رحیم بخش بگٹی اور دوست علی ولد ملوک بگٹی شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وسیع کریک ڈاؤن ممکنہ طور پر علاقے میں جاری تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے، جس کے لیے فوجی آپریشن کی تیاریاں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔