ملیر میں لٹریری پروگرام کی اجازت نہ دینا ناقابل قبول ہے،بساک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، ملیر زون نے کراچی ملیر میں پولیس کی جانب سے لٹریری پروگرام کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کے عمل کوناقابل قبول قرار دیاہے۔

اپنے بیان میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ملیر زون کے ترجمان نے کہا ہے کہ بساک ایک طلبہ تنظیم کی حیثیت سے طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اُن کی فکری اور علمی تربیت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ تنظیم بلوچستان سمیت دیگر بلوچ آبادی والے علاقوں میں وقتاً فوقتاً تربیتی پروگراموں اور ثقافتی و علمی فیسٹیولز کا انعقاد کرتی ہے، جن کا واحد مقصد بلوچ طلبہ کو معاشرتی بہتری اور قومی اصلاح کے لیے شعوری بنیادوں پر تیار کرنا ہے۔

ترجمان کے مطابق ہمارے پروگرام علمی بحث و مباحثے، بک ریویوز اور تقاریر سمیت تربیت کے تمام اہم پہلوؤں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ہم ہمیشہ نہایت پروقار انداز میں اپنے پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ ملیر میں بانُل دشتیاری کی یاد میں منعقدہ یہ پروگرام اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام نہیں ہے، بلکہ یہ انہی تربیتی پروگراموں کا تسلسل ہے جن کا تنظیم ہمیشہ اہتمام کرتی آئی ہے۔ بانُل دشتیاری بلوچ ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، جنہوں نے اپنی شاعری اور تخلیقات کے ذریعے بلوچی ادب کی گراں قدر خدمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم اپنی سیاسی، علمی اور ادبی شخصیات کو مختلف ادوار میں یاد رکھنے اور اُن کے کام کو سراہنے کے لیے پروگرام منعقد کرتی رہتی ہے۔ ملیر کا یہ پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جسے پولیس نے بلاوجہ سبوتاژ کر کے منعقد ہونے سے روک دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنظیم اس غیر قانونی عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ طاقت کے زور پر ہمارے علمی اور تربیتی پروگراموں کو روکنے کا عمل قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہم اس ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے۔

Share This Article