بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور مستونگ میں پاکستانی فورسز کو دو الگ الگ حملوں کا سامنا کرنا پڑاہے۔
جمعرات کی شام کوئٹہ کے علاقے گوالمنڈی پولیس تھانہ پر نامعلوم مسلح افراد نے دستی بم سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق زخمی اہلکار کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب ضلع مستونگ میں پاکستانی فوج کے اسپلنجی کے علاقے مَرو کنڈ میں قائم مرکزی کیمپ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق شام کے وقت کیمپ پر متعدد ڈرون حملے کیے گئے جن کے باعث فورسز کو جانی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل قلات میں بھی فوجی کیمپ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی تھی۔
واضح رہے کہ رواں سال بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی پہلی بلوچ فضائی یونٹ “قہر” (QAHR – Qazi Aero Hive Rangers) کے باقاعدہ آپریشنل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق یہ یونٹ جدید فضائی اور ڈرون وارفیئر صلاحیتوں سے لیس ہے اور اپنے ابتدائی آپریشنز کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔
بلوچستان میں ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے خطے میں سیکورٹی خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔