علیحدگی پسندوں کے حامیوں کیلئے کوئی رعایت نہیں ہے،سرفراز بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر بلوچ کارکنان سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ علیحدگی پسند عناصر کیلئے آواز اٹھانے والوں سے بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 19ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گڈ گورننس کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں۔

ان کے مطابق محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی گئیں جبکہ 3200 سے زائد بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف اور آزادی پسند بلوچ کارکنان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور بلوچستان کی تاریخ سے متعلق غیر مستند حوالوں کے ذریعے منفی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان مستند تاریخ سے آگاہی حاصل کریں تاکہ سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں سوشل میڈیا سمیت ہر محاذ پر ریاست کا دفاع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق تشدد پر مبنی کارروائیوں کا صوبے کی ترقی سے کوئی تعلق نہیں، اور ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا اور آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔

سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان متاثرہ فریق ہے اور وہ ماضی کی طرح آج بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں احتجاج کے نام پر سڑکیں طویل عرصے تک بند رہتی تھیں، لیکن اب بلوچستان میں کوئی شاہراہ غیر معینہ مدت تک بند نہیں ہونے دی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ آئین فرد کے احتجاج کے حق کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ علیحدگی پسند عناصر کیلئے آواز اٹھانے والوں سے بھی کوئی رعایت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کو ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا گیا، تاہم ان کے مطابق مؤثر قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں سیاسی کارکنان، انسانی حقوق تنظیموں اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ آزادی پسندوں کی حمایت کرنے والے یا ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے افراد ریاستی اداروں کی سخت نگرانی میں ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے افراد کے خلاف انتقامی کارروائیاں، ہراسانی، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

مقامی سطح پر ریاستی حمایت یافتہ گروہوں کو "ڈیتھ اسکواڈ” کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، جن پر جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ضلع پنجگور اور کیچ میں متعدد نوجوانوں کے جبری گمشدہ ہونے اور بعد ازاں ان کی لاشیں ملنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم بلوچ سیاسی کارکنان کے رشتہ داروں کو بھی دباؤ ڈالنے کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ وہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور نسل کشی پر خاموش رہیں۔

اس سلسلے میں بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے خاندان کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے، جن کے والد، چچا اور دیگر رشتہ داروں کو حب چوکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، اور تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق یہ اقدامات سیاسی کارکنان کی آواز دبانے کی کوشش کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

Share This Article