تربت سے برآمد نعش کی شناخت جبری لاپتہ یاور حبیب کےنام سے ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے پسنی تربت روڈ پر بانک چڑھائی کے قریب سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت جبری لاپتہ یاور حبیب ولد حبیب، ساکن عومری کہن شاپک کے نام سے ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یاور حبیب کو 16 جون 2025 کو سہ پہر تقریباً تین بجے بلوچستان ہائی کورٹ تربت برانچ کے سامنے سے اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جب وہ ایک مقدمے میں پیشی کے لیے وہاں موجود تھے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اغوا میں ملوث افراد کا تعلق پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ مسلح گروہ، جسے مقامی طور پر “ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے، سے تھا۔

لاش کو ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا گیا، جہاں مقتول کے بھائی نے اس کی شناخت کی۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق مقتول کے سر اور پیٹھ پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جو قتل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یاور حبیب کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا اور سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیا گیا تھا، جس میں ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بھی ایسے متعدد واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جن میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے پاکستانی فوج کے کیمپ پر منتقل کیا اور بعد ازاں انہیں قتل کر کے لاشیں پھینک دی گئیں ہیں۔

Share This Article