بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کی جانب سے جاری ماہانہ آگاہی مہم کے سلسلے میں کراچی میں ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بی وائی سی قیادت کی طویل غیرقانونی حراست پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سیمینار کا مقصد اس مہم کے بنیادی اہداف کو اجاگر کرنا تھا، جو ریاستی جبر، آزادیِ اظہار پر قدغن، اور سیاسی سرگرمیوں پر منظم پابندیوں کے خلاف شروع کی گئی ہے۔
مقررین نے کہا کہ یہ مہم متاثرہ خاندانوں کی آواز کو مضبوط بنانے، عوامی شعور بیدار کرنے اور اجتماعی جدوجہد کو منظم کرنے کی کوشش ہے۔
شرکاء نے اس حقیقت پر گہری تشویش ظاہر کی کہبی وائی سی قیادت کی گرفتاری کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں جمہوری آزادیوں کا مسلسل سکڑاؤ جاری ہے۔
مقررین نے بتایا کہ بلوچستان میں پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف کارکن بلکہ ان کے خاندان بھی شدید ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں۔
تقریب میں جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کے درد اور اجتماعی صدمے کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا۔
شرکاء نے کہا کہ یہ پالیسیاں انسانی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہیں اور پورے معاشرے میں خوف اور غیر یقینی کی فضا کو گہرا کر رہی ہیں۔
سیمینار میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، گلزادی بلوچ اور بیبو بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں کی طویل اور غیرقانونی حراست کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ یہ وہ افراد ہیں جو پرامن جدوجہد کے ذریعے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مہم جاری رہے گی اور قیادت کی رہائی، سیاسی آزادیوں کی بحالی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔