جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں جمعہ کے روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6098ویں روز بھی جاری رہا۔
احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے لاپتہ بلوچ افراد کی ماورائے قانون ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر عبدالرزاق پرکانی کے لواحقین نے بھی تنظیم سے رابطہ کیا۔ لواحقین کے مطابق عبدالرزاق پرکانی ولد عبدالغنی، سکنہ مری آباد مچھ ضلع کچی کو رواں سال 10 جنوری کو سکیورٹی فورسز نے عبدالغفار قلندرانی کے پیٹرول پمپ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ انہوں نے عبدالرزاق کی گرفتاری کی وجوہات جاننے کے لیے متعدد بار انتظامیہ سے رابطہ کیا، تاہم نہ تو گرفتاری کی وجہ بتائی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کی خیریت سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید پریشانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیمی سطح پر عبدالرزاق کے کیس کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
انہوں حکومت سے مطالبہ کیا کہ عبدالرزاق پرکانی سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کو جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات مل سکے۔