کوئٹہ میں طلبہ کی رہائش گاہوں پر چھاپے اور جھوٹے مقدمات ناقابل قبول ہیں، بی ایس او

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے عیسیٰ نگری، بروری روڈ پر پولیس کی جانب سے طلباء کی رہائش گاہوں پر رات کی تاریکی میں چھاپے، بلاجواز کریک ڈاؤن اور بے بنیاد ایف آئی آرز کا اندراج نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں کی اختیارات کے کھلے ناجائز استعمال اور بدترین پولیس گردی کی عکاسی کرتا ہے۔ بلوچ طلباء کو نشانہ بنا کر انہیں ہراساں کرنا، ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا اور ان کے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگانا ایک منظم ظلم ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ گزشتہ شب عیسیٰ نگری میں پولیس نے “روم ویریفکیشن” کے نام پر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے متعدد بے گناہ طلباء کو گرفتار کیا، حالانکہ ان کے پاس مکمل اور قانونی ویریفکیشن دستاویزات موجود تھیں۔ اس کے باوجود بروری پولیس اسٹیشن کے ہاؤس آفیسر نے اختیارات کے ناجائز استمال کر کے اپنے ائینی اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے طلباء کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آرز درج کیں، جو نہ صرف غیر قانونی بلکہ آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس ریاستی اداروں کی جبر کا براہِ راست نقصان طلباء کی تعلیم کو پہنچا ہے، جہاں ایک طالبعلم آج اپنے سیکنڈ ائیر کے معاشرتی علوم کے اہم امتحان میں شریک نہ ہو سکا۔ یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پولیس کی یہ کارروائیاں محض قانونی تقاضوں کے نام پر نہیں بلکہ طلباء کے مستقبل کو تباہ کرنے کی ایک خطرناک روش کا حصہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ بلوچ طلباء کو دیوار سے لگانے کی ہر کوشش کا بھرپور جمہوری اور سیاسی شعوری مزاحمت سے جواب دیا جائے گا۔ طلباء کو مجرم بنا کر پیش کرنا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

تنظیم کے مطابق بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار مطالبہ کرتی ہے کہ بروری پولیس اسٹیشن، نزد بولان میڈیکل کالج، میں تعینات تمام ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے گرفتار طلباء کے خلاف درج تمام بے بنیاد ایف آئی آرز فی الفور خارج کی جائیں طلباء کو ہراساں کرنے کے اس سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے بصورتِ دیگر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار طلباء کے ساتھ مل کر سخت عوامی و جمہوری احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ہم ہر سطح پر طلباء کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی میدان میں موجود رہیں گے اور کسی بھی ناانصافی کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔

Share This Article