امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندر گاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری ہے ، پہلے 48 گھنٹوں میں کوئی جہاز رکاوٹ توڑ نہ سکا، ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز بھی روک لیا گیاہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر عائد امریکی ناکہ بندی کے ابتدائی 48 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی فورسز کی رکاوٹ توڑ کر آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس مدت میں نو جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس پلٹ کر ایران کی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کا رخ کر لیا۔
امریکی کمانڈ نے مزید بتایا کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد اب تک 10 جہازوں کو واپس ایران بھیجا جا چکا ہے اور کوئی بھی بحری جہاز اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
اسی سلسلے میں سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو بھی روک لیا گیا ہے جو بندر عباس سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد امریکی فورسز کی جانب سے روکا گیا۔
بیان کے مطابق امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس سپرونس نے جہاز کا رخ موڑ کر اسے واپس ایران کی جانب بھیج دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا مقصد ایران کی بندرگاہوں سے نکلنے والی شپنگ سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے، اور اب تک تمام کارروائیاں امریکی فورسز کے کنٹرول میں رہی ہیں۔