طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ جب بھی افغانستان پر حملہ ہوا تو افغان حکومت نے ہمیشہ بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار حملے دہرائے گئے۔ ہم نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔
جمعے کو کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم ہمسایوں اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ ’افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی باہمی احترام پر مبنی ہے، اور ہم کسی کے ساتھ نقصان یا دشمنی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندرونی تنازع سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اوریہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔
اُن کے بقول تقریباً 20 برس سے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور اور پاکستانی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ سنہ 2007 میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی موجودگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے وہاں کئی فوجی آپریشن کیے، جن میں سے نمایاں آپریشن ضرب عضب تھا جو سنہ 2014 میں شروع ہوا تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان تقریباً چار سال سے افغانستان میں برسراقتدار ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے اب اپنے پرانے اور گھریلو مسائل کو افغانستان پر تھوپنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔