ایچ آر سی پی اجلاس : پیکا آرڈیننس آزادیِ اظہار کے لیے سنگین خطرہ قرار، زاہد بارکزئی کی رہائی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) سندھ چیپٹر کے زیرِ اہتمام ماہانہ اجلاس جمعہ کے روز کراچی دفتر میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، خصوصاً آزادیِ اظہار کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران آزادیِ رائے پر قدغنوں اور میڈیا کو درپیش دباؤ سے متعلق دستاویزی فلموں کی نمائش بھی کی گئی، جس کے بعد شرکاء نے تبادلۂ خیال کیا۔

اجلاس میں ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ، ماہرِ ابلاغیات ڈاکٹر توصیف احمد خان، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان، سینئر صحافی سہیل سانگی، انسانی حقوق کی کارکن مہناز رحمان، ریاض سہیل اور قاضی خضر سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔

مقررین نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) میں حالیہ ترامیم اور پیکا آرڈیننس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو آزادیِ اظہار محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسد اقبال بٹ کا کہنا تھا کہ پیکا آرڈیننس کی بعض شقیں مبہم اور وسیع تشریح کی حامل ہیں، جن کے ذریعے صحافیوں، سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو دبانا مسائل کا حل نہیں۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ ایسے قوانین کا اطلاق شفاف اور محدود دائرۂ کار میں ہونا چاہیے، بصورتِ دیگر یہ ریاستی اختیار کے بے جا استعمال کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

طاہر حسن خان نے کہا کہ آزادیِ اظہار پر قدغن جمہوری اقدار کو کمزور کرتی ہے اور میڈیا میں خود ساختہ سنسرشپ کو فروغ دیتی ہے، جس سے عوام تک درست معلومات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

سہیل سانگی اور ریاض سہیل نے کہا کہ پیکا کے تحت صحافیوں کو نوٹسز، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا ہے، جس سے صحافتی برادری میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔

مہناز رحمان نے زور دیا کہ شہری آزادیوں کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور کسی بھی قانون کو بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے مطالبہ کیا کہ پیکا آرڈیننس پر وسیع مشاورت کی جائے، متنازع شقوں کو ختم کیا جائے اور آزادیِ اظہار کے آئینی حق کو یقینی بنایا جائے۔

اس موقع پر قاضی خضر نے ایچ آر سی پی کے رکن زاہد بارکزئی کی مبینہ جبری گمشدگی اور بعد ازاں ان پر مقدمات قائم کیے جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

Share This Article