بلوچستان کےضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں مسلح افراد کے فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ بلیدہ سے ایک جبری لاپتہ نوجوان کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمدہوئی ہے جس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے شدید تشوش کا اظہار کیا ہے۔
تربت کے علاقے سنگانی سر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت عدنان ولد محمد موسی، ساکن شہرک کے نام سے ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد لاش کو تحویل میں لے کر قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
واقعہ کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے جمعرات کے روزجبری لاپتہ کیے گئے نصرم پیر بخش نامی نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق نصرم پیر بخش کی لاش میسکین کور کے علاقے سے برآمد ہوئی جس پر متعدد گولیاں لگنے کے نشانات ہیں۔
ابتدائی شواہد کے مطابق انہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نصرم پیر بخش کو اس سے قبل اکتوبر 2023 میں بھی لاپتہ کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں 12 جون 2024 کو رہا کر دیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق انہیں راجی مچی کے بعد 8 اگست 2024 کو دوسری بار لاپتہ کیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نصرم بلوچ ولد پیر بخش ، محلہ محمد آباد مہناز، بلیدہ کے رہائشی اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں 12 اکتوبر 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اور نو ماہ تک ان کے اہلِ خانہ شدید کرب اور بے یقینی میں مبتلا رہے۔ 2 جون سے 6 جون 2024 تک اہلِ خانہ نے ڈپٹی کمشنر آفس تربت کے سامنے دھرنا دیا، ریلیاں اور پُرامن مظاہرے کیے اور ان کی محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا۔
تنظیم کے مطابق 13 جون 2024 کو نصرم رہا ہوئے مگر صحت بری طرح متاثر تھی۔ دورانِ حراست انہیں تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں ہیپاٹائٹس اور مستقل جسمانی نقصان ہوا۔ چند ماہ بعد، 8 اگست 2024 کو دوبارہ بلیدہ بِٹ میں ان کے گھر پر حملہ ہوا۔ مسلح افراد نے ان کی والدہ اور بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نصرم کو دوبارہ جبراً لے گئے۔
بی وائی سی کا کہنا تھا کہ 26 فروری 2026 کو ان کی تشدد زدہ لاش میسکین ندی کے علاقے سے ملی، جس پر واضح تشدد کے نشانات موجود تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتی ہے اور عالمی برادری، بشمول اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی فوری تحقیقات کی جائیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔