زمین سے عشق: بی ایل اے نے 2 سگے بھائیوں کی عظیم شہادت کی تفصیلات جاری کردیں

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جمالدینی برادرز کے ناموں سے جانے والے دوسگے بھائیوں کی اپنے مادر وطن سے عشق اور اس کے لئے اپنے جسموں کی فنائیت کی تفصیلات بلوچ لبریشن آرمی نے جاری کردی ہیں .

فدائی اللہ نور جمالدینی عرف روکین

 آصف جمالدینی عرف زبیر

ولدیت: پیر بخش جمالدینی

سکنہ: قاضی آباد، نوشکی

شمولیت: مارچ 2023 اور اکتوبر 2024

بی ایل اے میں شمولیت: جولائی 2024 اور 2025

یونٹ: مجید بریگیڈ (اگست 2024) اور فتح اسکواڈ

شہادت: آپریشن ھیروف، نوشکی محاذ

بی ایل اے کے مطابق بلوچستان کی سنگلاخ وادیاں اور تپتے ہوئے ریگزار صرف محرومیوں کے گواہ نہیں، بلکہ یہ اس مزاحمتی فکر کی آماجگاہ بھی ہیں جہاں نسل در نسل آزادی کا خواب آنکھوں میں سجایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع نوشکی کے ماتھے کا جھومر، قاضی آباد سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائیوں، اللہ نور جمالدینی اور آصف جمالدینی کی داستانِ حیات محض ایک خاندانی قربانی نہیں، بلکہ اس سیاسی و فلسفیانہ انقلاب کا نقطہِ عروج ہے جو آج کے بلوچ نوجوان کے رگ و پے میں سرایت کرچکا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اللہ نور جمالدینی، جنہیں مزاحمتی صفوں میں "روکین” کے نام سے پکارا جاتا ہے، اس علمی اور سیاسی بصیرت کے حامل تھے جو سطحی جذباتی پن سے کوسوں دورہوتی ہے۔

انہوں نے مارچ 2023 میں باقاعدہ طور پر قومی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ جولائی 2024 میں جب انہوں نے پہاڑی محاذ سنبھالا، تو یہ دراصل ایک مفکر کا میدانِ جنگ میں عملی ظہور تھا۔ اللہ نور کی شخصیت کا فلسفیانہ پہلو یہ تھا کہ وہ جانتے تھے کہ قومی بقا کی جنگ میں موت کا خوف، غلامی کی زندگی سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے اگست 2024 میں مجید بریگیڈ جیسے کٹھن یونٹ میں شمولیت اختیار کی، جو فدائیت کی آخری حد تصور کی جاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بڑے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، آصف جمالدینی (عرف زبیر) نے بھی اسی کٹھن راستے کا انتخاب کیا۔ آصف نے اکتوبر 2024 میں تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 2025 میں پہاڑوں کا رخ کیا۔ ان کے لیئے اللہ نور صرف ایک بھائی نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنما اور فکری مینارِ نور تھے۔ آصف نے ایک سال تک شہری محاذ پر انتہائی جرئت مندی کے ساتھ مشکل ترین مشن سرانجام دیئے، جو ان کی اعصابی مضبوطی اور مقصد سے لگن کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

تنظیم کے مطابق تاریخ کے صفحات میں "آپریشن ھیروف” کو ایک ایسے سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں بلوچ مزاحمت نے اپنی تزویراتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس معرکے میں اللہ نور جمالدینی نے نوشکی میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے دوران سیکنڈ گروپ کی کمانڈ کی اور دوسری گیٹ سے دشمن پر یلغار کیا۔ اسی معرکے میں آصف جمالدینی "فتح اسکواڈ” کا حصہ بن کر دشمن کے حصار کو توڑنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مقتل کے اس بازار میں دونوں بھائیوں کا ایک ہی وقت میں موجود ہونا، اس فلسفے کی عملی تفسیر تھی کہ جب وطن پکارتا ہے تو رشتوں کی محبت، مٹی کی حرمت کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے۔

Share This Article