کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (CPNE) نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے اخبارات کی کم مقبولیت اور ڈیجیٹل میڈیا پالیسی سے متعلق حالیہ بیان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں سی پی این ای کے صدر اور سیکریٹری جنرل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں، جہاں انٹرنیٹ کی رسائی اور بجلی کا بحران ایک سنگین مسئلہ ہے،وہاں اخبارات آج بھی عوام تک معلومات پہنچانے کا سب سے معتبر اور بڑا ذریعہ ہیں۔
وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ اخبارات کو بہت کم لوگ پڑھتے ہیں،دراصل پرنٹ میڈیا کی اہمیت کو کم کرنے اور اشتہارات کی بندش کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے جو کہ صحافتی اداروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
حکومت ڈیجیٹل میڈیا کی طرف جانے کا شوق ضرور پورا کرے لیکن اسے پرنٹ میڈیا کی قیمت پر نافذ کرنا دانشمندی نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اخبارات کی اپنی ایک تاریخی اور دستاویزی حیثیت ہے جسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کبھی تبدیل نہیں کر سکتے۔
سی پی این ای نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی میڈیا پالیسی کی تشکیل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور اخباری صنعت کو دیوار سے لگانے کے بجائے اسے مضبوط کیا جائے تاکہ آزادیِ صحافت پر کوئی آنچ نہ آئے۔