بلوچستان میں جبری گمشدگیاں جاری، خاندانوں پر لاتعلقی کے بیانات کا دباؤ بڑھ گئی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر عالمی سطح پر شدید تنقید کے باوجود بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔

مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر متعدد افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض افراد کی لاشیں بعد ازاں مختلف علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں۔

خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور بعد میں انہیں جعلی مقابلوں میں ہلاک کرکے عسکریت پسند ظاہر کیا گیا۔

متعدد رپورٹس کے مطابق جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے پیاروں سے لاتعلقی کا اعلان کریں۔

خاندانوں کا مؤقف ہے کہ انہیں دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر وہ لاتعلقی کا اعلان نہ کریں تو انہیں "ملک دشمن” قرار دیا جا سکتا ہے یا وہ اپنے زمین ،گھر بار سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔

اسی دباؤ کے نتیجے میں کئی خاندانوں نے پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنے لاپتہ عزیزوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، جن میں تربت، کوئٹہ اور بلیدہ کے خاندان شامل ہیں۔

تربت کے علاقے ہوشاپ کے رہائشی راشد بلوچ نے اپنے جبری لاپتہ بیٹے شیراز بلوچ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

شیراز بلوچ طویل عرصے سے لاپتہ ہیں اور خاندان کے مطابق انہیں ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

کوئٹہ میں جمعہ کے روز دو خاندانوں نے الگ الگ پریس کانفرنسز میں اپنے لاپتہ بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

نظام الدین بنگلزئی نے بتایا کہ ان کے بھائی اسرار الدین ایک سال سے لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کا تعلق کسی مسلح تنظیم سے ثابت ہوا تو خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

محمد طارق شاہوانی نے کہا کہ ان کے بھائی محمد ناصر شاہوانی ڈھائی سال قبل گھر سے نکلے تھے اور واپس نہیں آئے۔ انہوں نے بھی کسی ممکنہ غیر قانونی سرگرمی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

بلیدہ کے رہائشی حاجی دلمراد نے اپنے ڈھائی سال سے لاپتہ بیٹے محبوب سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ محبوب کے لاپتہ ہونے کے بعد سے اس کا کوئی رابطہ نہیں رہا، اور اگر وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو خاندان اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خاندانوں سے زبردستی لاتعلقی کے بیانات لینا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

تنظیموں کے مطابق یہ بیانات جبری گمشدگیوں کو "متنازع” بنانے اور لاپتہ افراد کو عسکریت پسند ظاہر کرنے کی کوشش کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

Share This Article