عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ زبان کسی بھی قوم کی تاریخ، تہذیب، فکری ارتقاء اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ زبانوں کا تحفظ دراصل قومی بقا، ثقافتی شناخت اور فکری آزادی کا تحفظ ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں اسلئے منایا جاتا ہے کہ لسانی تنوع اور مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے، تاہم بلوچستان میں مقامی زبانیں بدستور پالیسی سطح پر نظرانداز کی جا رہی ہیں۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچی، براہوی، پشتو اور دیگر مقامی زبانیں صدیوں پر محیط تاریخ اور ادب کی امین ہیں، مگر تعلیمی نظام میں انہیں وہ مقام حاصل نہیں جو کسی بھی زندہ قوم کی زبان کو ملنا چاہیے۔ مادری زبانوں کو ابتدائی تعلیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں ثانوی حیثیت دینا علمی اور نفسیاتی طور پر طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ بچہ اپنی مادری زبان میں بہتر سیکھتا اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جامعات میں علاقائی زبانوں کے شعبہ جات کو فعال بنایا جائے، ادبی بورڈز اور تحقیقی مراکز کو وسائل فراہم کیے جائیں، اور سرکاری سطح پر لسانی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جائے۔ زبانوں کو نظرانداز کرنا دراصل ایک پوری نسل کو اپنی جڑوں، تاریخ اور تہذیب سے کاٹنے کے مترادف ہے۔
مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او لسانی و ثقافتی تنوع کو بلوچستان کی طاقت سمجھتی ہے اور مادری زبانوں کے فروغ، تدریس اور تحفظ کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ زبانوں کا دفاع دراصل اپنی شناخت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا دفاع ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔