بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ملک بھر میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل میں غیر معمولی طور پر اضافہ حیران کن حد تک بڑھ چکا ہے۔
حمدان بلوچ ولد محمد علی عمر 24 سال جو کہ پیشے لحاظ سے ایک اسٹوڈنٹ تھا۔ حمدان بلوچ منگو پیر پرانہ گولیمار کراچی کا رہائشی تھا۔ اس کے خاندان کے مطابق 29 دسمبر 2025 کو دوبی گھاٹ گولیمار کراچی سے سیکیورٹی کے اہلکاروں نے جبری طورپر لاپتہ کیا۔ بعد میں اس کی جبری گمشدگی سی ٹی ڈی نے ظاہر کیا کہ اس کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا جائے گا لیکن کہ بدقسمتی سے اُسے عدالت میں پیش کرنے سے دو دن پہلے 18 فروری 2026 میں کسی فیک انکاؤنٹر کیس میں تین اور افراد کے ساتھ سی ٹی ڈی نے شھید کیا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ دانیال بلوچ جو کہ نمل یونیورسٹی سے گورنس اور پبلک پالیسی میں گریجویٹ ہیں۔ اُن کو کراچی میں اس کے دو دوستوں سمیت 16 فروری 2026 کو جبری لاپتہ کیا گیا ۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کہ ترجمان نے مطالبہ کیا ہیں کہ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کو بند کیا جائے ۔ حمدان بلوچ جو ایک 24 سالہ نوجوان تھا اُسے انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے پیش کرنے سے دو دن پہلے فیک انکاؤنٹر میں شھید کیا گیا جو ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کی بلوچ دشمن اور بلوچ نسل کش پالیسی کے تحت کیا جارہا ہے۔