امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ٹیرف قانونی طور پر درست نہیں تھے اور انھیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

یہ فیصلہ جمعہ کی شام آٹھ بج کر پانچ منٹ پر سنایا گیا۔ عدالت کے حکم کے بعد امریکی حکومت کی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ عالمی ٹیرف کو 6-3 کے تناسب سے کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں تین لبرل ججز، کیتنجی براؤن جیکسن، ایلینا کیگن اور سونیا سوتومئیر، نے تین قدامت پسند ججز، ایمی کونی بیریٹ، نیل گورسچ اور چیف جسٹس جان رابرٹس، کے ساتھ مل کر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا۔

دوسری جانب جسٹس بریٹ کاوانا، سیموئل الیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے وسیع تجارتی اقدامات کالعدم ہو گئے ہیں۔

یہ فیصلہ امریکی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب کرے گا اور ماہرین کے مطابق مستقبل میں صدر کے اختیارات کی حدود مزید واضح ہو جائیں گی۔

ٹرمپ نے جمعرات کی دوپہر ریاست جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بار بار ٹیرف کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ٹیرف نہ ہوتے تو ’سب دیوالیہ ہو جاتے‘۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بطور صدر ان کا ’حق‘ ہے کہ وہ ٹیرف مقرر کریں کیونکہ ’زبان بالکل واضح ہے‘۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار پر بھی شکایت کی اور کہا کہ ’میں اس فیصلے کے لیے ہمیشہ سے انتظار کر رہا ہوں۔ ہمیشہ۔‘

سپریم کورٹ کے فیصلے پر صدر ٹرمپ کا ردِعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

Share This Article