ایران کے خلاف فوجہ کارروائی کے حوالےسے دنیا 10 دن میں جان جائے گی، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں جاری ہے جس میں پاکستان سمیت 47 ممالک شریک ہیں۔

اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شریک ممالک کے سربراہان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہا۔

پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہیں، میری ان سے اس وقت بات ہوئی جب (انڈیا) لڑائی جاری تھی۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’آپ کے فیلڈ مارشل بھی بہترین آدمی ہیں۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے جنگجو ہیں اور میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘

ٹرمپ نے بتایا کہ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی جاری تھی تو انھوں نے دونوں ممالک کے سربراہان کو کو کال کی۔

’میں نے انھیں کہا کہ دیکھو اگر آپ اس مسئلے کو حل نہیں کرتے تو میں آپ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کروں گا۔‘

امریکی صدر کے مطابق ’دونوں ممالک نے کہا کہ نہیں نہیں‘ اور جلد ہی معاملات حل ہو گئے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ امن کے لیے عزہ امن بورڈ اہم فورم ہے اور اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے اس کا کوئی متبادل نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ نو رکن ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے امدادی پیکج کے لیے مشترکہ طور پر 7 ارب ڈالر کے فنڈز دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ان ممالک میں قازقستان، آزربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کے مطابق اس کے علاوہ انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ نے غزہ سٹیبلائزیشن فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت کا وعدہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ غزہ امن بورڈ کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کہ دنیا کو ’اگلے ممکنہ 10 دنوں میں‘ معلوم ہو جائے گا کہ آیا امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا فوجی کارروائی کرے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں اپنے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ’ہمیں ایک بامعنی معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ برے واقعات ہوں گے۔‘

حالیہ دنوں میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی دستے بڑھائے ہیں جبکہ سوئٹزرلینڈ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان مذاکرات میں بھی پیش رفت کی اطلاع دی گئی۔

ڈیموکریٹک قانون سازوں اور کچھ رپبلکنز نے ایران میں کانگریس کی منظوری کے بغیر کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔

اپنے بیانات میں ٹرمپ نے کہا کہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، جو ٹرمپ کے داماد بھی ہیں، نے ایران کے ساتھ ’کچھ بہت اچھی ملاقاتیں‘ کیں۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ برسوں میں یہ ثابت ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ کرنا آسان نہیں ہے، بصورت دیگر بری چیزیں ہو جاتی ہیں۔‘

ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا ’بہت دانشمندانہ اقدام‘ ہوگا اور مزید کہا کہ ٹرمپ اب بھی تہران کے جوہری پروگرام پر سفارتی حل کی امید رکھتے ہیں۔

جب ٹرمپ نے پہلی بار بورڈ آف پیس کا اعلان کیا تو خیال کیا جاتا تھا کہ اس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں دو سالہ جنگ کو ختم کرنے اور تعمیر نو کی نگرانی کرنا ہے۔ لیکن گزشتہ ماہ میں اس کا مشن صرف ایک تنازعہ نہیں رہا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی صدارت میں ہونے والا بورڈ جو تقریبا دو درجن ممالک پر مشتمل ہے، اقوام متحدہ کو پس پشت ڈالنے کے لیے ہے۔

امریکی میزائل اور طیاروں نے گذشتہ سال جون میں تین ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس اس ہفتے نئے حملے کے اختیارات پر بات کر رہا تھا۔

امریکی افواج نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

تاہم بی بی سی کو علم ہوا ہے برطانوی حکومت نے امریکہ کو ایران پر ممکنہ حملوں کی حمایت کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔

مشرق وسطیٰ میں پچھلی فوجی کارروائیوں میں، امریکہ نے گلوچسٹرشائر میں آر اے ایف فیئر فورڈ اور انڈین اوشن میں برطانیہ کے بیرون ملک علاقے ڈیاگو گارسیا کو استعمال کیا۔

سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایران نے فوجی تنصیبات کو مضبوط کیا ہے اور ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر امریکی فورسز کو دھمکیاں دینے والے پیغامات پوسٹ کیے ہیں۔

خامنہ ای کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’امریکی صدر مسلسل کہتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی طرف ایک جنگی جہاز بھیجا ہے۔ یقینا، جنگی جہاز ایک خطرناک فوجی ساز و سامان ہوتا ہے، تاہم، اس جنگی جہاز سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس جنگی جہاز کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔‘

امریکی کانگریس کے کئی ارکان نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

Share This Article