ایران پر ممکنہ امریکی حملہ زیرِ غور، شام سے فوجی انخلا کی تیاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے اعلیٰ قومی سلامتی حکام کے ساتھ مشاورت کی ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی فوج سنیچر تک کارروائی کے لیے تیار ہو سکتی ہے، لیکن حملے کا وقت آگے بھی جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر مسلسل غور جاری ہے، جہاں اس اقدام کے خطرات، ممکنہ ردعمل اور سیاسی و عسکری نتائج پر بحث ہو رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پینٹاگون آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ سے کچھ اہلکاروں کو عارضی طور پر یورپ یا امریکہ منتقل کر رہا ہے تاکہ ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے بچا جا سکے۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ تیاری معمول کا حصہ ہے اور فوری حملے کا مطلب نہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ "ایران پر حملے کے کئی جواز موجود ہیں، لیکن صدر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہے۔”

اسی دوران امریکہ نے شام میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ اگلے چند ماہ میں تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی شام سے واپس بلائے جائیں گے۔ شامی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اپنی سرحدوں کے اندر قیادت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی۔

امریکی فوج 2015 سے شام میں داعش کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے موجود تھی۔ اس سال کے آغاز میں جنوبی شام کے ال تنف گیریژن اور شمال مشرقی شام کے ال شدادی بیس سے بھی امریکی فوجی واپس بلا لیے گئے تھے۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں یا جلد پہنچنے والے ہیں، جو خطے میں بڑھتی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Share This Article