بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ عوام دہائیوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی جدوجہد میں بے یار و مددگار چھوڑ دیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ ہونے والی خلاف ورزیوں میں جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں، جو پاکستانی فوج، نیم فوجی دستوں جیسے فرنٹیئر کور (FC)، اور بلوچستان میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پولیس کی جانب سے کیے جاتے رہے ہیں۔ سندھ میں بھی رینجرز، خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی پر اسی نوعیت کی کارروائیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی بلوچ افرادخصوصاً طلبہ کو ان کی نسلی شناخت اور بلوچ ہونے کی بنیاد پر پولیس اور خفیہ اداروں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان کی پے در پے آنے والی حکومتوں نے فوج کے ساتھ اختیارات کی شراکت داری کے ذریعے ان پالیسیوں کی حمایت کی ہے یا انہیں جاری رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔
رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں حراست کے دوران ایک جعلی مقابلے میں حمدان بلوچ کا ماورائے عدالت قتل، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی حراست اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہونے پر احتساب کے مسلسل فقدان کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر طویل عرصے سے ایسے اقدامات کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق اقوامِ متحدہ، یورپی حکومتوں اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی غیر مؤثر ردِعمل اور سیاسی عزم کی کمی نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو بلوچستان میں انسدادِ بغاوت کے نام پر ایسی کارروائیاں جاری رکھنے کا حوصلہ دیا ہے جو بلوچ نسل کشی کی حد تک پہنچتی دکھائی دیتی ہیں۔
رحیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بلوچ عوام کو درپیش انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال فوری طور پر اقوامِ متحدہ، یورپی حکومتوں اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی توجہ کی متقاضی ہے۔میں حمدان بلوچ کے کیس میں شفاف تحقیقات اور سی ٹی ڈی و پولیس اہلکاروں کو، جو ایک جعلی مقابلے میں ان کے قتل کے ذمہ دار ہیں، قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔