پاکستانی فورسز نے کراچی اور قلات سے 5 نوجوانوں کوجبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
قلات سے اطلاعات ہیں 10 فروری 2026 کو شام تقریباً 5 بجے پاکستانی فورسز نے قلات کے علاقے مغولزئی میں آر سی ڈی روڈ سے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ ہے۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت خدا رحیم ولد حاجی غلام مصطفی کے نام سے ہوئی ہے، جو قلات کے علاقے شیشہ ڈگار کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ایک کسان ہے۔
اسی طرح 16 فروری 2026 کو کراچی میں NCCI ہسپتال کے قریب جعفر آباد کے 3 رہائشیوں کو فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
لاپتہ افراد کی شناخت دانیال ناصر ولد عبدالناصر، محمد اقبال ولد خالق داد، اور ارشاد علی سکنہ جعفر آباد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں فورسز نے 18 فروری 2026 کو رات دو بجے لیاری کے علاقے کلری میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک نوجوان کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت کاشف ولد یعقوب کے نام سے ہوئی ہے، جو کلری لیاری کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ کاشف کو فورسز نے دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔ اس سے قبل 29 جولائی 2025 کو کراچی کے علاقے صدر سے بھی انہیں حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ وہ تقریباً تین ماہ تک جبری گمشدگی کا شکار رہے اور 21 اکتوبر 2025 کو بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔