بلوچی زبان کے نامور اور انقلابی لہجے کے نوجوان شاعر مجید عاجز کی تدفین آج منگل کو شام 3:30 بجے ان کے آبائی گاؤں بالیچاہ کے قبرستان میں کی جائے گی۔
ان کی میت مسقط سے کراچی منتقل کیے جانے کے بعد بذریعہ ایمبولینس بالیچاہ پہنچائی گئی ہے، جہاں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور ادبی حلقے ان کے آخری سفر میں شریک ہوں گے۔
گزشتہ جمعہ کی صبح مسقط، عمان میں دل کا دورہ پڑنے سے مجید عاجز انتقال کر گئے۔
ان کی وفات کی تصدیق ان کے قریبی دوستوں نے کی۔ اس اچانک سانحے نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری بلوچی ادبی برادری کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔
مجید عاجز کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالیچاہ سے تھا۔ وہ اپنی شاعری میں رومانوی لہجے کو انقلابی رنگ کے ساتھ پیش کرنے کے باعث نوجوان نسل میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے تھے۔ مختصر عرصے میں انہوں نے ایک منفرد ادبی شناخت قائم کی اور ان کے اشعار سوشل میڈیا سمیت ادبی حلقوں میں وسیع پیمانے پر پڑھے اور سنے جاتے تھے۔
وہ گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے سیاسی حالات کی خرابی کے باعث جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی ان کا دل اپنی مٹی، زبان اور لوگوں کے ساتھ دھڑکتا رہا۔ ان کی شاعری میں دھرتی کی خوشبو، جلاوطنی کا کرب اور آزادی کی تڑپ نمایاں تھی۔
سماجی ، معاشرتی وادبی حلقوں اور چاہنے والوں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہیں بلوچی شاعری کا روشن باب قرار دیا جا رہا ہے، جس کا اختتام ان کی وفات کے ساتھ ہوا۔ تاہم ان کا لفظ، لہجہ اور فکر کتابوں، دلوں اور نوجوان نسل کے خوابوں میں زندہ رہیں گے۔