کراچی کے بلوچ علاقے لیاری سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار زاہد بارکزئی سمیت 3 افرادکی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے جن پر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
سندھ رینجرز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی ایک مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں کراچی کے علاقے چکرا گوٹھ، کورنگی سے انتہائی مطلوب تین دہشت گردوں یاسرعرفات، خدا بخش اور زاہد حسین بارکزئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لگ بھگ 20 روز قبل انسانی حقوق کے کارکن زاہد حسین عرف بارکزئی کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ زاہد کو نقاب پوش افراد گھر سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے جس کے بعد سے ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔
سندھ رینجرز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ زاہد حسین سمیت تین ملزمان کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔
سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق ملزموں کے قبضے سے بارودی مواد، انتہا پسندی پر مبنی لٹریچر کی 250 کتابیں اور لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے ہیں۔
ترجمان رینجرز کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کالعدم تنظیم میں شمولیت کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ذہن سازی کرنے اور انتہا پسندی پر مبنی لٹریچر کی فراہمی میں ملوث تھے۔
اس سے قبل زاہد بارکزئی کے چچا سعید بارکزئی کی جانب سے ڈی جی رینجرز اور انسانی حقوق کمیشن، پاکستان کو درخواست دی گئی تھی۔ اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 27 جنوری 2026 کی رات دو سے ڈھائی بجے کے درمیان چار سے پانچ کاروں پر سوار نقاب پوش اشخاص ان کے بھتیجے کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے اُن کی کوئی خبر نہیں ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کا بھتیجا امن پسند شہری ہے اور کسی بھی غیر قانونی عمل میں کبھی شریک نہیں رہا ہے۔
واضح رہے کہ زاہد حسین بارکزئی انسانی حقوق سے وابستہ ہیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لیاری میں ادبی و علمی سرگرمیوں اور بحث مباحثوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔