بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے حکومت بلوچستان کی جانب سے آزادی پسندوں کواشتہاری قرار دینے اور ان کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر اور بلوچ رہنما نواب براہمدغ بگٹی اور دیگر بلوچ سیاسی رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا ایک دہشت گردانہ اور جارحانہ اقدام ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ریاست اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے، خاموش کرانے اور خوف پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو انعامی فہرستوں اور دھمکیوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش دراصل کمزوری اور بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔ یہ اقدام بلوچستان کے حالات کو مزید سنگین بنائے گا۔
ان کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور ماورائے قانون کارروائیاں پہلے ہی سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں سروں کی قیمت مقرر کرنا ریاستی جبر کو مزید کھلے عام شکل دینا ہے۔
شیر محمد بگٹی نے کہا کہ اس سے قبل ریاستی ادارے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مختلف جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دے کر سیاسی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اب ریاست خود مکمل طور پر ایک ڈیتھ اسکواڈ کی شکل اختیار کر چکی ہے جو سروں کی قیمت مقرر کر کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا کھلم کھلا اعلان کر رہی ہے۔ ایسے اقدامات ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ اس خطرناک پیش رفت کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور اس طرزِ عمل کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔