بلوچستان میں دنیا کا سب سے بڑا سولر سالٹ منصوبہ شروع کرنے کی تیاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں دنیا کا سب سے بڑا سولر سالٹ منصوبہ شروع کرنے کی تیاری کا دعویٰ کیا جارہا ہے جو سالٹ بیسڈ کیمیکل انڈسٹریز کا قیام کے بعد بلوچستان کو صنعتی حب میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں اطلاعات ہیں کہ چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کراچی میں حب سالٹ (Hub Salt) کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں انہیں بلوچستان کی ساحلی پٹی، خصوصاً پسنی ویسٹ اور ھور کلمت میں مجوزہ اسٹریٹجک سولر سالٹ پروجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کا آغاز سالانہ 4 ملین ٹن (MTPA) پیداواری صلاحیت سے کیا جائے گا، جسے مرحلہ وار بڑھا کر 18 ملین ٹن تک لے جایا جائے گا۔

بتایا گیا کہ 8 ملین ٹن کی حد عبور کرتے ہی یہ منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا سولر سالٹ آپریشن بن جائے گا، جو بلوچستان کو صنعتی اور برآمدی گریڈ سولر سالٹ کا عالمی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حب سالٹ جو گزشتہ 40 برس سے پاکستان کی نمک انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع تجربے کی بنیاد پر اس منصوبے کو عالمی معیار کے مطابق مکمل کرے گا۔

کمپنی اس وقت ملک کی سب سے بڑی نمک پیدا کرنے والی اور سپلائی کرنے والی کمپنی ہے۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 4 ملین ٹن بلک ایکسپورٹ متوقع ہے، جس سے گوادر پورٹ کی فعالیت اور کارگو تھروپٹ میں نمایاں اضافہ ہوگا اور بندرگاہ ایک اہم منرل ایکسپورٹ گیٹ وے کے طور پر مزید مستحکم ہوگی۔

اس کے علاوہ نمک کی پیداوار سے کاسٹک سوڈا، سوڈا ایش، سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) اور دیگر سالٹ بیسڈ کیمیکل انڈسٹریز کے قیام کی راہ ہموار ہوگی، جس سے بلوچستان میں ویلیو ایڈیشن اور صنعتی نظام (Industrial Ecosystem) کو فروغ ملے گا۔

منصوبے کے تحت حکومتِ بلوچستان کو 8 فیصد فری کیرڈ ایکویٹی دی گئی ہے، جس کے ذریعے بلوچستان کو بغیر سرمایہ کاری کے طویل مدتی ریونیو حاصل ہوگا اور صوبائی شراکت داری مضبوط ہوگی۔

منصوبے سے پسنی، ھور کلمت اور گوادر کے مقامی افراد کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ ملازمتوں میں مقامی کمیونٹی کو ترجیح دی جائے گی۔ مزید برآں، کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر، صحت کی سہولیات، اسکولز اور کمیونٹی انفراسٹرکچر کے قیام جیسے اقدامات بھی کیئے جائیں گے۔تاکہ علاقے کی طویل المدتی سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

حسب روایت دعویٰ کیا جارہاہے کہ یہ اسٹریٹجک منصوبہ نہ صرف برآمدات میں اضافہ اور پائیدار معاشی ترقی کا باعث بنے گا بلکہ بلوچستان کو خطے میں ایک مضبوط صنعتی اور کیمیکل حب کے طور پر متعارف کرانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

Share This Article