طلبہ سیاست پر عائد پابندی ایک غیر آئینی و آمرانہ اقدام ہے، بی ایس ایف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ طلبہ کی سیاسی جدوجہد اور شعور کو ختم کرنے اور اپنے اقتدار کو چیلنج کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے جنرل ضیا الحق کے دور میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی جو بدقسمتی سے آج تک برقرار ہے اس پابندی نے جامعات میں منفی رجحانات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں طلبہ مختلف نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو گئے اور ان سے ان کی اجتماعی نمائندگی کا بنیادی حق چھین لیا گیا۔ یہ پابندی طلبہ کے حقوق پر ایک کاری ضرب ثابت ہوئی ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ہاسٹل، میس، انٹرنیٹ اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات تک طلبہ کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز کو دیگر اداروں کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ طلبہ کی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور سکیورٹی فورسز و پولیس کی جانب سے تشدد معمول بن چکا ہے، جبکہ آئے روز طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ اب جامعات میں داخلے سے قبل طلبہ سے یہ حلف لیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے جو کہ آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے۔ فیسوں میں اضافے اور دیگر طلبہ سے متعلق فیصلے ان کی نمائندگی کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ کو مختلف بہانوں سے ہراساں کیا جاتا ہے، مگر وہ منظم ہو کر آواز نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ذرا سی مزاحمت پر انہیں تعلیمی ادارے سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

ترجمان نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 42 برسوں سے حکمران طبقات نے دانستہ طور پر طلبہ کو ان کے بنیادی جمہوری حق، یعنی طلبہ یونین سازی سے محروم رکھا ہے۔ حالانکہ طلبہ کسی بھی سماج میں تبدیلی کی اصل قوت ہوتے ہیں، مگر انہیں غیر نمائندہ بنا کر فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا گیا اور ایک خاموش، تابع اور غیر منظم طبقہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ آج تعلیمی ادارے علم و تحقیق کے مراکز نہیں رہے بلکہ انہیں نیولبرل منڈی کا حصہ بنا دیا گیا ہے، جہاں تعلیم کو منافع اور طلبہ کو صارف سمجھا جاتا ہے۔ نجکاری، بے تحاشا فیسوں میں اضافہ اور اخراجی پالیسیاں محنت کش طبقے کے نوجوانوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر رہی ہیں۔ کیمپسز کو جمہوری مکالمے کی جگہ عسکری نگرانی، سیکیورٹی چیک پوسٹوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور طلبہ کی ہراسانی کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ذہنی صحت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور تعلیمی ماحول کو خوف، عدم تحفظ اور غیر یقینی میں دھکیلا جا رہا ہے تاکہ سوال کرنے والی آوازوں کو دبایا جا سکے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی فوری بحالی اور چار دہائیوں پر محیط جابرانہ پابندی کے خاتمے کے مطالبے کا پُرزور خیرمقدم کیا، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین پر عائد پابندی فی الفور ختم کی جائے، طلبہ کو ان کے تعلیمی و سیاسی حقوق دیے جائیں، اور طلبہ کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ طلبہ اپنے حقوق کے لیے منظم ہوں گے، مزاحمت کریں گے اور ہر سطح پر اس جبر کے خلاف جدوجہد کو تیز کریں گے۔

Share This Article