بلوچستان ہائی کورٹ میں قیادت کی محفوظ ضمانت کے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر پر بی وائی سی کوتشویش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کی دیگر رہنماؤں کی محفوظ ضمانت کے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ درخواستیں 17 دسمبر 2025 کو ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد فیصلہ کے لیے محفوظ کی گئی تھیں، تاہم تین ماہ گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

سماعت کے دوران دفاع نے اپنے دلائل مکمل کر دیے تھے، جبکہ استغاثہ کسی بھی ایسے ٹھوس ثبوت یا مواد کی فراہمی میں ناکام رہا جو زیرِ حراست رہنماؤں کی مزید حراست کو قانونی طور پر درست ثابت کر سکے۔ اس کے باوجود کیس نمبر 89/25، 05/25، 28/25، 19/25 اور 92/25 میں جسٹس کامران ملاح خیل اور جسٹس نجم الدین مینگل کی جانب سے فیصلہ تا حال جاری نہیں کیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق پاکستان میں محفوظ شدہ ضمانت کے فیصلے عام طور پر چند دنوں یا ہفتوں میں سنا دیے جاتے ہیں، لیکن اس معاملے میں طویل خاموشی عدالتی عمل کی شفافیت اور آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر رہی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ یہ تاخیر محض تکنیکی نوعیت کا مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق، شخصی آزادی اور عدلیہ پر عوامی اعتماد کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ جب پُرامن سیاسی کارکن بغیر ثبوت کے اور بغیر بروقت عدالتی فیصلے کے جیل میں رکھے جائیں تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانونی اداروں کو اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ عدلیہ کو چاہیے کہ وہ شفاف، آزاد اور بے خوف ہو کر اپنا کردار ادا کرے۔”

بی وائی سی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام اور وہ تمام شہری جو آئینی و جمہوری حقوق پر یقین رکھتے ہیں، ایک واضح اور بروقت عدالتی فیصلے کے مستحق ہیں۔

Share This Article