پاکستان کے سپیکر قومی اسمبلی نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی صورتحال پر حکومت کی جانب سے مطالبات نہ ماننے پر 3 ستمبر 2024 کو استعفیٰ دیا تھا۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تقریباً ایک سال پانچ ماہ تک اختر مینگل کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔
اختر مینگل گذشتہ عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع خضدار کے حلقہ این اے 256 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل نے قومی اسمبلی سے اپنے استعفیٰ کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر سخت ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اپنے پیغام میں سردار مینگل نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے “اپنے ہی خوف کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی دیر تک پاؤں گھسیٹنے کے بعد” ان کا استعفیٰ منظور کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا “کیا یہ تالیاں تھیں جس نے آپ کو پریشان کیا یا یہ حقیقت کہ میں پنجاب کے مرکز میں ہجوم کھینچ سکتا تھا؟”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ استعفیٰ دینے کے بعد سے انہوں نے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا اور تمام رقم پارلیمنٹ کے بینک میں موجود ہے جب کہ پارلیمنٹ لاجز سترہ ماہ قبل خالی کر دیے گئے تھے اور وہ تب سے وہاں مقیم نہیں رہے۔
واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آج سردار اختر جان مینگل کا استعفیٰ سترہ ماہ بعد منظور کرنے کا اعلان کیا۔ سردار مینگل نے یہ استعفیٰ بلوچستان کے معاملات پر وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے خلاف دیا تھا۔ وہ این اے 256 خضدار سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں ان کی حالیہ ٹویٹ کو موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں اہم بیان قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اختر مینگل نے گزشتہ روز لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2026 میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن اسمبلی رانا ثناءاللہ کو مخاطب کرکے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی تھی۔