بلوچ عسکریت پسنداور سہولت کاروں کونہیں بخشاجائے گا،پاکستانی آرمی چیف کا دورہ کوئٹہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے بلوچستان میں منظم ، مربوط اور غیر متوقع حملوں اورسرکاری انفراسٹرکچروسیکورٹی فورسزکو پہنچنے والی بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہیں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور داخلی سکیورٹی آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی کسی جواز کے تحت قبول نہیں، کوئی عسکریت پسند اور سہولت کار نہیں بخشا جائے گا۔

اس کاکہنا تھاکہ کوئی عسکریت پسند اور سہولت کار کونہیں بخشا جائے گا، تشدد اور دہشتگردی کسی جواز کے تحت قبول نہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس موقع پر انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین کیا۔

جنرل عاصم منیر اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا اور فوج، ایف سی اور پولیس کے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔

جنرل عاصم منیرکی آمد پر کورکمانڈرکوئٹہ نے استقبال کیا۔

یاد رہے کہ 31 جنوری کوکوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 علاقوں میں بی ایل اے نے مربوط حملے کئے ۔ان حملوں میں بی ایل اے نے سیکورٹی فورسزکے 310 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جن میں پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے شامل ہیں جبکہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے 46 چھیالیس جانباز سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔

تاہم آرمی اور سیکیورٹی اداروں نے ان حملوں کو فوری پسپا کرنے اور حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

Share This Article