جاسم جان کو پنجگور میں پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز نے ماورائے عدالت قتل کیا، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جاسم جان، ولد محمد آدم، ساکن پنجگور، جو کچھ روز قبل جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے، کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ ان کی مسخ شدہ لاش وشبود کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کے بعد کئی دنوں تک جاسم جان کی کوئی خبر نہ مل سکی، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار رہے۔ بعدازاں ان کی گولیوں سے چھلنی اور تشدد زدہ لاش کی برآمدگی نے واضح کر دیا کہ انہیں حراست کے دوران قتل کیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز بلوچستان میں مکمل استثنیٰ کے ساتھ سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاسم جان کا تعلق ایک محنت کش گھرانے سے تھا اور وہ دیہاڑی مزدوری کے ذریعے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔ ان کا قتل بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی بڑھتی ہوئی لہر کا حصہ ہے، جس میں محنت کشوں، طلبہ، اساتذہ اور پیشہ ور افراد سمیت عام بلوچ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے بلوچ عوام میں خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی صدمے کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں جاری یہ تشدد نہ صرف معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے بلکہ اس بات کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی ادارے مکمل طور پر جوابدہی سے آزاد ہیں۔

Share This Article