بلوچستان بھر میں 31 جنوری کو بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کے آپریشن ہیروف فیزٹو کے حملوں کے پیش نظر خراب سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے بلوچستان سے اندرون پاکستان ٹرین سروس معطل رہی جس سے ریلوے کو 30 لاکھ سے زائد کانقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
محکمہ ریلویز نے آج بھی کوئٹہ سے اندرون پاکستان اور چمن کے لیےٹرین سروس معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
محکمہ کہنا تھا کہ کراچی سے کوئٹہ آنے اور جانے والی بولان میل کو 12 فروری تک معطل رکھا جائے گا۔
ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے اندورن پاکستان اور چمن کے لیے ٹرین سروس کی معطلی سے محکمہ ریلویز کو اب تک 30لاکھ سے زائد کا نقصان ہو چکاہے۔
دوسری جانب پنجاب کو بلوچستان سے ملانے والی ڈی آئی خان لورالائی قومی شاہراہ اور کوئٹہ سے تفتان جانے والی قومی شاہراہ بھی 5 روز سے بند ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ پانچ دنوں سے بلوچستان میں بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے اوراطلاعات ہیں کہ نوشکی میں اب تک سرمچار فورسز کے کیمپ پر کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں اور جھڑپیں جاری ہیں۔