کوئٹہ ،وڈھ ،اورناچ میں حملے و فائرنگ،نوشکی میں پاکستانی فوج کے ایک اور کیمپ پر سرمچاروں کا کنٹرول

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں اور پاکستانی فورسز کی آپریشن کلین اپ کے بعد بھی بلوچستان میں بے یقینی کے صورتحال برقرار ہے اور حالات تاحال کشیدہ ہیں ۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نوشکی کے علاقے احمد وال میں بلوچ لبریشن آرمی نے فوج کے کیمپ سمیت پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اس سے قبل گلنگور کے علاقے میں ایک مرکزی کیمپ پر بی ایل اے نے کنٹرول حاصل کیا تھا۔

احمد وال کا نوشکی شہر سے فاصلہ 20 کلومیٹر ہے جبکہ 34 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گلنگور میں فوج کے پوسٹ کو بھی کنٹرول میں لیکر تمام اسلحہ و جنگی سامان تحویل میں لیا گیا تھا۔

دوسری جانب آج پانچویں روز بھی نوشکی شہر میں بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول برقرار ہے، فورسز ہیڈکوارٹرز کی جانب فائرنگ و دھماکوں کی آواز سنی گئی تھی تاہم شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے بروقت معلومات تک رسائی ممکن نہیں۔

واضح رہے بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی صبح بلوچستان کے 12 شہروں میں بیک وقت حملوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنے “آپریشن ھیروف” (کالی آندھی) کا اعلان کیا تھا۔ اس آپریشن کے تحت کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، خاران، مستونگ، قلات، خضدار، گوادر، پسنی، تربت، تمپ میں بڑے پیمانے پر کاروائیاں کی گئی۔

آج پانچویں روز بھی بلوچستان کے کئی علاقوں میں معمولات زندگی بحال نہیں ہوسکے ہیں۔ انٹرنیٹ سروس، ٹرین سروس اور مرکزی شاہراہوں پر آمد و رفت معطل ہے۔

گذشتہ شب کوئٹہ مشرقی بائی پاس کے قریب اچانک شدید فائرنگ اور دہماکہ کے باعث عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم ابھی تک ان دہماکوں اور فائرنگ کی نوعیت معلوم نہ ہوسکیں۔

دو دن قبل کوئٹہ میں ایک عسکریت پسند بلوچ تنظیم نے منظم پیمانے کا حملہ کیا اور ریڈ زون میں داخل ہوکر نقصان پہنچایا تاہم آرمی اور سیکیورٹی اداروں نے ان حملوں کو فوری پسپا کرنے اور حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

اسی طرح گذشتہ شب خضدار کے علاقوں وڈھ اور اورناچ میں مسلح افراد کی جانب سے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں شدید فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی کی گئی جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حفاظتی نکتہ نظر سے ٹرانسپورٹ روک دی ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے جب کہ علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم تاحال واقعے کی نوعیت، ذمہ داران اور نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

Share This Article