بلوچستان کی کٹھ حکومت میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری کے قریبی سمجھے جانے والے اور وزیر زراعت علی حسن زہری نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق علی حسن زہری کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے اہم فرنٹ مینوں میں ہوتا ہے اور عام تاثر یہ تھا کہ انہیں پارٹی اور طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ انتخابات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ خیال بھی کیا جا رہا تھا کہ علی حسن زہری کو بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے منصب کے لیے سنجیدگی سے زیر غور لایا جا سکتا ہے تاہم بلوچستان میں موجود طاقت کے توازن اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی مضبوط پوزیشن کے باعث یہ امکان عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علی حسن زہری کو مبینہ طور پر فارم 47 کے ذریعے کامیاب قرار دیے جانے سے متعلق بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری رہی جب کہ کابینہ میں ان کے کردار اور اختیارات سے متعلق تحفظات بھی سامنے آتے رہے۔
علی حسن زہری کے استعفے کو بلوچستان حکومت کے اندر جاری اختلافات اور پیپلز پارٹی کی اندرونی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم تاحال حکومت یا پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے استعفے کی وجوہات پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ استعفیٰ بلوچستان کی سیاست میں نئے سیاسی صف بندیوں اور ممکنہ تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جب کہ آنے والے دنوں میں مزید اہم پیش رفت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔