بلوچستان کے ایک اور شہر واشک میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
واشک میں ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ایک دو سرکاری دفاتر کو نذر آتش کرنے کے علاوہ ایک بینک کو بھی نقصان پہنچایا۔
عینی شاہد نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جو کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر تھے صبح ساڑھے 11 بجے کے قریب ضلع واشک کے ہیڈکوارٹر واشک میں داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ اندازا ساڑھے تین گھنٹے تک واشک شہر میں موجود رہے اور اس کے بعد واپس چلے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کی موجودگی کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح افراد شہر سے نکلنے سے پہلے ایس پی واشک اور نادرا کے دفاتر کے علاوہ نیشنل بینک کو نذر آتش کیا۔
واشک میں ایک سینیئر سرکاری آفیسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ نامعلوم افراد نے ایس پی کے دفتر اور نادرا کے دفتر کو نذر آتش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے نیشنل بینک کو بھی نقصان پہنچایا۔
سرکاری اہلکار نے بتایا کہ بعد میں سیکورٹی فورسز نے ان کو انگیج کیا جس کے بعد مسلح افراد شہر سے نکل گئے۔
سینیچر کے روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12شہروں پر مسلح افراد کے حملوں کے بعد غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
غیر یقینی صورتحال کے باعث پیر کو تیسرے روز بھی موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل رہی جبکہ کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے شہروں کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل رہی۔
سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کی اجتماع ، شناخت چھپانے کے لیے چہروں کو ڈھانپنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔