روس، چین اور آسٹریلیا نے بلوچستان میں بی ایل اے کی جاری آپریشن ہیروف 2 کے حملوں کی مذمت کی ہے۔
پاکستان میں روس کے سفارتخانے نے بلوچستان میں 31 جنوری تا یکم فروری ہونے والے حالیہ عسکریت پسندانہ حملوں کی مذمت کی ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سفارتخانے نے کہا ہے کہ ’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر قسم کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ ہماری امید ہے کہ ان سفاکانہ کارروائیوں کے ذمہ داروں کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
سفارتخانے نے مزید لکھا کہ ’ہمارے دل متاثرین کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘
اسی طرح چین نے بلوچستان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میں چین کے سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’چین ہر قسم کی دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، سماجی استحکام کو برقرار رکھنے اور اپنے لوگوں کو محفوظ رکھنے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔‘
علاوہ ازیں آسٹریلیا نے پاکستان کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں وہ پاکستان کے ساتھ کھڑاہے۔
آسٹریلیا نے کہا کہ "ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ہیں”
پاکستان میں تعینات آسٹریلوی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔
آسٹریلوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان متاثرین کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے جنہوں نے ان بزدلانہ حملوں میں اپنی جانیں گنوائیں یا زخمی ہوئے۔
دوسری جانب بی ایل اے کاکہنا ہے کہ آپریشن ھیروف فیز ٹو تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے اور58 گھنٹے گزرنے کے باوجود بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری ہے۔
ان کے مطابق متعدد مقامات پر سرمچار مضبوط پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ نوشکی شہر اور پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کے ایک بڑے حصے پر بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول بدستور قائم ہے، جہاں قابض فورسز کو شدید دباؤ اور پسپائی کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے بلوچ سرمچار جرائت اور بہادری سے لڑتے ہوئے دشمن فوج کو مسلسل ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور کئی علاقوں میں قابض فوج کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
تنظیم نے دعویٰ کیا ہےکہ ابتدائی اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک پاکستانی فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 220 کے قریب پہنچ چکی ہے۔جبکہ آپریشن کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے شہید سرمچاروں کی تعداد ابتک 27 ہو چکی ہے، جن میں 14 مجید بریگیڈ کے فدائین، 8 فتح اسکواڈ اور5 ایس ٹی او ایس یونٹ کے سرمچار شامل ہیں۔