بی این ایم چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد اور چچا پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے حب چوکی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے علی الصبح کیے گئے چھاپوں کے دوران بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد اور چچا کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ذرائع کے مطابق 2 فروری کو صبح تقریباً ساڑھے تین بجے حب چوکی کے مختلف علاقوں میں متعدد گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ اس دوران ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر محمد بخش ساجدی، ان کے بھائی نعیم ساجدی اور سابق چیف سوئی گیس بلوچستان انجینئر رفیق بلوچ کو حراست میں لے لیا گیا۔

محمد بخش ساجدی، بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد ہیں، جبکہ نعیم ساجدی اور انجینئر رفیق بلوچ ان کے چچا بتائے جاتے ہیں۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران کسی قسم کا قانونی وارنٹ پیش نہیں کیا گیا اور حراست میں لیے گئے افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے افراد کی فوری بازیابی اور قانونی کارروائی کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضع رہے کہ پاکستانی فورسز سر فیس میں موجود بلوچ سیاسی کارکنان کو ان کے موقف کی وجہ سے مخلتف طریقوں سے ہراساں اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتی رہی ہے جس کا پہلا ہدف فیملی ہوتا ہے جو جبری گمشدگی ، تشدد اور ذہنی اذیت کا سامنا کرتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے جی پلس اسٹیٹس کے خلاف بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی مہم کے ردعمل میں پاکستانی فوج نے بی این ایم کی قیادت ڈاکٹر نسیم بلوچ اور جمال بلوچ کے خلاف ایک بے بنیاد پروپیگنڈا مہم شروع کر دیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی نے پنے ایک پریس کانفرنس میں بی این ایم کے قائد ڈاکٹر نسیم بلوچ پر مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جھوٹے الزامات عائد کر دیئے تھے۔

یاد رہے کہ وہ بلوچ قوم کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں اور پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کی آزادی کے داعی ہیں۔

Share This Article